Class Matric Part 2 NotesIslamiat class 10th

Matric Part 2 Class 10th Islamiat Unit 5 Urdu Medium

Matric Part 2 Class 10th Islamiat Unit 5 Urdu Medium on newsongoogle.com by Bilal Articles

      موضوعاتی مطالعه 

                                                                             باب پنجم

                                                                   طہارت اور جسمانی صفائی

سوال: 1 قرآن وحدیث کی روشنی میں طہارت پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔ یا طہارت کا مفہوم نیز پاکیزگی حاصل کرنے کے طریقے لکھیے۔

جواب: طہارت کا معنی: طہارت کے لغوی معنی پاک ہونے، پاکیزگی حاصل کرنے اور ناپاکی سے دور رہنے کے ہیں۔ طہارت کا مفہوم: شریعت کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نجاست اور گندگی کو دور کر کے صفائی اور پاکیزگی حاصل کرنے کو طہارت کہتے ہیں۔

-1 دین فطرت کا اصول: اسلام دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات ہے اور انسان کی تمام ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ انسان طبعاً صفائی پسند ہے اس لئے اسلام نے تمام انسانوں کو بالخصوص مسلمانوں کو ظاہری اور باطنی صفائی کے تمام اصول بتادیئے ۔ قرآن و حدیث کے ذریعے تمام چھوٹے اور بڑے مسائل سے آگاہ کر دیا اور

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اسلام کو آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنا کر عملی طور پر ان تمام باتوں کو سمجھا دیا تا کہ کوئی مشکل نہ رہے۔

2 – طہارت کی تاکید : دنیا کے ہر مذہب نے طہارت و پاکیزگی کو پسند کیا ہے اور اس کی تاکید بھی کی ہے مگر جتنا زور اسلام نے دیا ہے کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔

3- طہارت کی اہمیت قرآنی آیات کی روشنی میں:

قرآن مجید میں بے شمار جگہ پر طہارت و تزکیہ نفس کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

1- يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ ﴿ا﴾ قُمْ فَأَنْذِرُ ﴿٢﴾ وَرَبُّكَ فَكَبِرُ ﴿٣﴾ وَثِيَابَكَ فَطَهِرْ وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ (۵) (سورة المدثر : 5-1)

“اے کپڑے میں لپٹنے والے ! میرے پیارے نبی سی بی نہ اٹھے اور لوگوں کو ڈرایے اور اپنے رب کی بڑائی بیان کریں اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے اور ناپاکی سے دور رہیے “۔

ii إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ

” بے شک اللہ تعالی تو بہ کرنے والوں وہ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے “۔

iii – وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا

اور اگر تم ناپاک ہو جاؤ تو ( نہا دھو کر پاکی حاصل کرو”۔

iv – فِيْهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِرِينَ

“ان میں سے ایسے بھی لوگ ہیں جو پاک صاف رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے”

v– مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (سورة المائده : 6)

” خدا نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی رکھے بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہیں پاک صاف کر دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تا کہ تم شکر ادا کرو”۔

vi – إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ﴿٧٧﴾ فِي كِتَبٍ مَكْنُونٍ ﴿٤٨﴾ لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ

(سورۃ الواقعہ : 79-77)

” بے شک یہ قرآن بہت بڑی عزت والا ہے جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے۔ جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔”

4- طہارت کی اہمیت احادیث کی روشنی میں:

حضور اکرمصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

1 – الطَّهُورُ شَطْرُ الإِيمَان ” صفائی ایمان کا حصہ ہے “۔

ii- نماز جنت کی کنجی ہے اور طہارت نماز کی کنجی ہے۔

iii- چار چیزیں انبیاء کی سنت ہیں : (1) حیا

(2) نکاح

(3) خوشبو لگانا (4) مسواک کرنا

iv ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ ملی یا ہم کو مشابہ لگ گیا۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ میں ہم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو اچھی طرح پاکیزگی حاصل نہیں کرتے اور امام ان کی وجہ سے بھول جاتا ہے۔

5- طہارت کے ذرائع :

شریعت میں طہارت کے دو ذرائع ہیں:

(1) وضو

(2) عسل

ان کے علاوہ کسی بیماری یا پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں تیمم بھی طہارت و پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

6- طہارت کی اقسام:

طہارت کی پانچ اقسام ہیں:

i – طہارت فکر: طہارتِ فکر سے مراد ہے گندے خیالات سے پاک ہونا، غلط اور بری سوچ سے پاک ہونا، دوسروں کو دھوکا دینے اور ان کے بارے میں برا سوچنے کے خیالات کو ختم کرنا۔

ii- طہارت اخلاق اور اس بری عادت کو چھوڑ دینا جس سے لوگ نفرت کرتے ہوں ، طہارت اخلاق کہلاتا ہے۔ مثلاً نفاق، جھوٹ، غیبت اور حسد وغیرہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهُمَّ طَهْر قَلبِي مِنَ النفَاقِ ” اے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے پاک کر دے”۔

iii- طہارت جسم: طہارت جسم سے مراد ہے جسم کو ناپاکی اور گندگی سے پاک رکھنا۔ آج کے دور میں صفائی کا خیال تو رکھا جاتا ہے ، لوگ عام غسل کرنے کو ہی طہارت سمجھتے ہیں حالانکہ شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں اور شرائط کے مطابق صفائی نہ کی جائے تو طہارت نہیں ہو گی اور طہارت کے قائم نہ ہونے سے کوئی عبادت قبول نہ ہو گی۔ اللہ کی عبادت کے وقت جسم ۔ جگہ اور لباس کا پاک ہونا ضروری ہے۔ جسم کی صفائی سے روح کو مسرت حاصل ہوتی ہے ، انسان اور حیوان میں فرق قائم ہوتا ہے۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم : آپ نے ایک صحابی رضی الللہ  سے فرمایا ہمیشہ باوضور ہو ، دونوں محافظ فرشتے تجھے دوست رکھیں گے۔

iv- طہارت لباس: قرآن پاک میں ہے: وَثِيَابَكَ فَطَهِر ” اپنے کپڑے پاک رکھیے “۔ آپ کا لباس اگرچہ سادہ اور پیوند دار ہوتا تھا مگر صاف ستھرا اور پاک ہوتا تھا۔ آپ اپنے صحابہ (رضی اللہ) کو بھی پاک اور صاف لباس پہننے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔

v- طهارت مکان:

طہارت مکان سے مراد یہ ہے کہ جس جگہ ہم نماز پڑھیں وہ پاک ہو، جہاں ہم رہتے ہیں یعنی گھر کی صفائی ضروری ہے دفتر ، کار خانہ ، سکول جہاں ہم کام کرتے یا پڑھتے ہیں صاف رکھنے چاہئیں۔ جس گاؤں یا شہر میں ہم رہتے ہیں اسے پاک صاف رکھنے کی کوشش کریں۔ وہ ملک جس کے ہم باشندے ہیں اور یہ دنیا جو تمام انسانوں کے رہنے کا ایک بہت بڑا گھر ہے اسے صاف ستھرارکھنا ہم سب انسانوں کا فرض ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَهِمَ وَاسْتَعِيْلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعُكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (سورة البقره: 125)

ترجمہ : ” اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے عہد لیا کہ وہ میرے گھر ( بیت اللہ ) کو طواف کرنے والوں اور اس میں اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں “۔

7- طہارت کے فوائد :

i صاف ستھرا رہنے والے لوگ توانا اور صحت مند ہوتے ہیں۔

ii اللہ صاف ستھرے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

iii ہر نماز سے پہلے وضو کرنے سے ذہنی اور جسمانی سکون ملتا ہے ، تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔

iv صفائی کے باعث انسان بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

vعبادت اور کام کرنے میں لطف آتا ہے ، کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

viانسانی شخصیت میں نکھار آجاتا ہے۔

viiطہارت سے ظاہری صفائی بھی حاصل ہوتی ہے اور روحانی صفائی بھی۔

سوال 2: وضو کا طریقہ بیان کیجیے۔ یا وضو کرنے کا مسنون طریقہ تحریر کریں۔

جواب نماز ، تلاوت قرآن اور دیگر عبادات کے لیے مسنون طریقے کے مطابق چہرے، بازو، سر کا مسح اور پاؤں دھونا وضو کہلاتا ہے۔ “

1- وضو کی اہمیت:

نماز سے پہلے وضو کر نا واجب ہے بشر طیکہ جسم اور لباس پاک ہو اور اگر جسم و لباس پاک نہیں تو وضو سے پہلے غسل کرنا اور لباس کو پاک کرنا لازمی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلوةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ

( سورة المائدة : 6)

“اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لئے جاؤ تو اپنے چہرے اور بازو کہنیوں تک دھو لیا کرو، اپنے سروں کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں سمیت پاؤں دھو لیا کرو”۔

اس آیت کی روشنی میں وضو کے درج ذیل چار فرائض ہیں:

2- وضو کے فرائض:

I چہرے کو دھونا (پیشانی کے بالوں سے لے کر تھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک )

ii کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھونا

iii. سر کا مسح کرنا

iv سخنوں سمیت پاؤں دھونا

ان کے علاوہ باقی چیزیں سنت اور مستحب ہیں۔

3- وضو کرنے کا مسنون طریقہ:

i  بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں۔

ii اچھی طرح ہاتھوں کو تین بار دھوئیں۔

iii تین بار کلی کریں۔

iv تین بار ناک میں اچھی طرح پانی ڈالیں اور ناک کو بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اچھی طرح صاف کریں۔

V چہرے کو پیشانی کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اچھی طرح دھوئیں۔

Vi کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھوئیں۔

Vii سر کا مسح کریں۔

Viii شخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین بار دھوئیں۔

Ix وضو کرتے وقت یہ خیال رکھیں کہ پہلے جسم کا دایاں حصہ اور پھر بایاں حصہ دھویا جائے۔

وضو کرنے کے بعد کلمہ شہادت پڑھیں :

أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ “

” میں گواہی دیتا ہوں دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا / دیتی ہوں کہ حضرت محمد صلی یا کریم اس کے بندے اور رسول ہیں “۔

اس کے بعد دعاما نگیں:

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِينَ

” اے اللہ ! مجھے تو بہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں میں سے بنادے”۔

سوال 3: غسل کا طریقہ بیان کیجیے۔

جواب: غسل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ” دھونا، پانی بہا کر مانا “۔

اور عام معنوں میں غسل سے مراد نہانا ہے۔

غسل پاکیزگی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

وإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَأَطْهَرُوا ( سورة المائدة : 6)

اور اگر تم ناپاک ہو جاؤ تو ( نہا دھو کر ) پاک صاف ہو جایا کرو۔

مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں :

فِيْهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يُتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَهِرِينَ ( سورة التوبه : 108)

اور ان میں سے ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ بھی پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔ اگر جسم ناپاک ہو تو وضو سے پہلے غسل کرنا واجب ہے۔ اگر غسل نہ کیا جائے تو انسان گناہ گار رہتا ہے اور کوئی بھی عبادت قبول نہیں ہوتی۔

-1غسل کے فرائض:

غسل کے فرائض تین ہیں :

iکلی کرنا ( اس طرح کہ پانی حلق تک پہنچے )

iiناک میں پانی ڈالنا ( جہاں تک ممکن ہو پانی آگے تک لے جائے)

iii سارے بدن پر پانی بہانا تا کہ بال برابر بھی کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے ( بالوں کی جڑوں اور ناخنوں کے اندر بھی پانی پہنچا نا ضروری ہے)

2- غسل کرنے کا مسنون طریقہ :  نہانے سے پہلے ضروری ہے کہ

i جسم کا جو حصہ گندا ہے اسے دھو لیا جائے۔

ii وضو کر لینا بہتر ہے۔

Iii و گرنه تین بار اس طرح کلی کرنا کہ پانی حلق تک پہنچ جائے۔

iv ناک میں پانی تین بار ڈالنا، جہاں تک ممکن ہو آگے تک لے جائیں۔

V سر میں پانی ڈالیے اور اسے بالوں کی جڑوں تک پہنچائیے۔

vi پورے جسم پر تین بار پانی بہایا جائے اور جسم کو اچھی طرح مل کر صاف کر لیا جائے۔

نوٹ : غسل میں جسم پر ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہے جبکہ تین مرتبہ پانی بہانا سنت ہے۔

3 -غسل کے مسنون مواقع :

i حضور طی یا ہم نے جمعہ کے دن غسل کرنے کو مسنون قرار دیا ہے۔

ii عیدین ( عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کے موقع پر۔

iii عمرہ اور حج کے لئے احرام باندھنے سے پہلے۔

iv یوم عرفہ (حج والے دن)۔

V ان کے علاوہ ناپاکی کی کچھ صورتیں ایسی ہیں جن میں غسل واجب ہے مثلاً غسل جنابت ( شادی شدہ جوڑوں کا غسل ) اگر اس حالت میں غسل نہ کیا گیا تو انسان گنہ گار رہے گا، اس کی عبادت قبول نہ ہو گی۔

4- غسل کے آداب:

i پانی اعتدال سے استعمال کرنا۔

ii پردے میں نہانا۔

iii. غسل خانہ میسر نہ ہو تو مرد کے لئے ضروری ہے کہ جسم کے ستر والے حصے پر کپڑا باندھ لے مگر عورت کیلئے مکمل پر دہ ضروری ہے۔

.iv غسل کرتے وقت باتیں کرنے اور گنگنانے اور فضول پانی ضائع کرنے سے پر ہیز کیا جائے۔

-5 طہارت کے فوائد :

.i  صاف ستھرارہنے والے لوگ توانا اور صحت مند ہوتے ہیں۔

.ii اللہ صاف ستھرے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

iii  ہر نماز سے پہلے وضو کرنے سے ذہنی اور جسمانی سکون ملتا ہے، تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔

iv  صفائی کے باعث انسان بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

V  عبادت اور کام کرنے میں لطف آتا ہے ، کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

vi  انسانی شخصیت میں نکھار آجاتا ہے۔

Vii طہارت سے ظاہری صفائی بھی حاصل ہوتی ہے اور روحانی صفائی بھی۔

حاصل کلام : اسلام صرف جسم ، جگہ اور لباس پاک رکھنے پر زور نہیں دیتا بلکہ ہمہ گیر طہارت اسلام کا امتیازی نشان ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے نہایت تفصیل کے ساتھ طہارت اور پاکیزگی کے احکام بتائے، طریقے سمجھائے اور خود عمل کر کے دکھا یا پیس ہر مومن اور مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان احکامات کو سمجھے اور ان کے مطابق اپنے ظاہر اور باطن کو پاک صاف رکھے۔

                                                         سوالات اور ان کے مختصر جوابات

س 1: طہارت کا مفہوم واضح کریں۔

ج: شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں اور اس کی شرائط کے مطابق صفائی یا پاکیزگی اختیار کر ناطہارت کہلاتا ہے۔ 

س 2: سورۃ المدثر میں نبی ا ہم کو طہارت کے بارے میں کیا حکم دیا گیا ہے ؟ یا کپڑوں کو صاف رکھنے کے حوالے سے قرآنی آیت کا ترجمہ لکھیں۔ 

ج: وَثِيَابَكَ فَطَهِرْ وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ

ترجمہ : اپنے کپڑوں کو پاک رکھ اور ناپاکی سے دور رہ۔

س 3  طہارت کے بارے میں ایک قرآنی آیت اور ایک حدیث بیان کریں۔

ج: آيات : وَثِيَابَكَ فَطَهِرْ وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ

حدیث : الطهور شطر الایمان

طہارت ایمان کا حصہ ہے “۔

س 4 طہارت میں کونسی دو چیزیں شامل ہیں؟

ج: طہارت میں دو چیزیں وضو اور غسل شامل ہیں، جبکہ بیماری یا پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں تیمم بھی کیا جا سکتا ہے۔ ( پاک مٹی سے خود کو پاک کرنا تیم کہلاتا ہے )۔

س 5: وضو کے فرائض کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں؟

ج: وضو کے فرائض چار ہیں:

1- چہرے کو دھونا پیشانی کے بالوں سے لے کر تھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک )

2 – کہنیوں سمیت بازوؤں کو دھونا

3- سر کا مسح کرنا

ٹخنوں سمیت پاؤں دھونا

س 6 وضو کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟

i بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں ۔

ii اچھی طرح ہاتھوں کو تین بار دھوئیں۔

iii تین بار کلی کریں۔

iv تین بار ناک میں اچھی طرح پانی ڈالیں اور ناک کو بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اچھی طرح صاف کریں۔

.v چہرے کو پیشانی کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اچھی طرح دھوئیں ۔

 viکہنیوں سمیت بازوؤں کو دھوئیں۔

Vii سر کا مسح کریں۔

Viii سخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین بار دھوئیں۔

Ix وضو کرتے وقت یہ خیال رکھیں کہ پہلے جسم کا دایاں حصہ اور پھر بایاں حصہ دھویا جائے۔

وضو کرنے کے بعد کلمہ شہادت پڑھیں اور اس کے بعد دعاما نگیں۔

س 7 غسل کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟

ج: نہانے سے پہلے ضروری ہے کہ 

i جسم کا جو حصہ گندا ہے اسے دھو لیا جائے۔

Ii. وضو کر لینا بہتر ہے۔

Iii و گرنه تین بار اس طرح کلی کرنا کہ پانی حلق تک پہنچ جائے۔

iv ناک میں پانی تین بار ڈالنا، جہاں تک ممکن ہو آگے تک لے جائیں۔

V سر میں پانی ڈالیے اور اسے بالوں کی جڑوں تک پہنچائیے۔

vi  پورے جسم پر تین بار پانی بہایا جائے اور جسم کو اچھی طرح مل کر صاف کر لیا جائے۔

س 8 غسل کے فرائض کتنے ہیں اور کون کون سے ہیں؟

ج: غسل کے فرائض تین ہیں

i  کلی کرنا ( اس طرح کہ پانی حلق تک پہنچے )

ii  ناک میں پانی ڈالنا ( جہاں تک ممکن ہو پانی آگے تک لے جائے )

سارے بدن پر پانی بہانا تا کہ بال برابر بھی کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے ( بالوں کی جڑوں اور ناخنوں کے اندر بھی پانی پہنچانا ضروری ہے)

س 9 عام غسل اور طہارت میں کیا فرق ہے؟ ( غسل کا کیا مفہوم ہے)

ج: عام غسل محض جسم پر پانی بہانا ہے ، جب کہ اسلام کے شرعی اصولوں کے مطابق صفائی کر ناطہارت کہلاتا ہے۔

س 10: اللہ تعالی نے دین میں چھوٹی بڑی باتوں (احکام دین) سے کس طرح لوگوں کو آگاہ کیا ہے ؟

ج:  اللہ تعالی نے دین میں تمام چھوٹی بڑی باتوں سے انسانوں اور خصوصاً مسلمانوں کو قرآن و حدیث کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کو آخری نبی ملی ای ام بنا کر اپنے دین کو عملی طور پر سمجھا دیا ہے۔

س 11: غسل کے لئے کسی چیز کا اہتمام ضروری ہے ؟

ج: غسل کے لئے پر دے کا اہتمام ضروری ہے۔ عورت پر لازم ہے کہ پردے میں نہاے مرد بہر حال کپڑے سے اپنے ستر کو چھپا کر پردے کے بغیر بھی نہا سکتا ہے۔

س 12: غسل کے دوران کن چیزوں سے اجتناب ضروری ہے؟

ج غسل کے دوران مندرجہ ذیل باتوں سے اجتناب ضروری ہے

. باتیں کرنا

. گنگنانا

. پانی ضائع کرنا

س 13 کن مواقع پر غسل کرنا مسنون ہے ؟

ج نبی کریم کی ہم نے جمعہ کے دن غسل کرنے کو ہر مسلمان کے لئے مسنون قرار دیا ہے ۔ اسی طرح عیدین ( عید الفطر اور عیدالاضحی) اور عمرہ و حج کے لئے احرام باندھنے سے پہلے نہانے کو بھی اپنی سنت میں شامل کیا ہے۔ ان تمام مواقع پر نہانا بہتر اور مسنون ہے۔

س 14: عیدین سے کیا مراد ہے؟

ج عیدین سے دو عیدیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ مراد ہیں جو اسلامی تہوار ہیں۔ عید الفطر یکم شوال کو رمضان کا مہینہ گزارنے کے بعد جبکہ عید الاضحی دس ذی الحجہ کو حضرت ابراہیم و اسماعیل کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔

س 15: طہارت کے چند فوائد لکھیں۔

ج طہارت کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں

1 – صاف ستھرارہنے والے لوگ توانا اور صحت مند ہوتے ہیں۔

2 – اللہ صاف ستھرے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

3– ہر نماز سے پہلے وضو کرنے سے ذہنی اور جسمانی سکون ملتا ہے ، تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔

4- صفائی کے باعث انسان بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

5- عبادت اور کام کرنے میں لطف آتا ہے، کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

س 16 رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں ہم نے طہارت کے متعلق کیا ارشاد فرمایا ؟

ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے طہارت کے متعلق ارشاد فرمایا: ” الطهور شطر الايمان”

ترجمہ : ” پاکیزگی (صفائی) ایمان کا حصہ ہے “۔

ترجمہ : ” پاکیزگی (صفائی) ایمان کا حصہ ہے “۔

س 17 : کپڑوں کو پاک صاف رکھنے کے حوالے سے قرآنی آیات کا ترجمہ لکھیے۔

ج: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ

ترجمہ : ” اپنے کپڑوں کو پاک رکھ اور ناپاکی سے دور رہ “۔

س 18: وضو کے فوائد تحریر کریں۔

ج

وضو کے چند فوائد مندرجہ ذیل ہیں :

1– وضو کرنے سے اللہ تعالی نیکیاں عطا فرماتا ہے۔

2 – حدیث کے مطابق جو شخص وضو میں رہتا ہے فرشتے اس کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں۔

3- اللہ صاف ستھرے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Enable Notifications OK No thanks