Class Matric Part 2 NotesIslamiat class 10th

Matric Part 2 Class 10th Islamiat Unit 6 Urdu Medium

Matric Part 2 Class 10th Islamiat Unit 6 Urdu Medium on newsongoogle.com by Bilal Articles

        موضوعاتی مطالعه

     باب ششم

 صبر و شکر اور ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی

سوال 1 : اسلامی تعلیمات میں صبر کی ترغیب کیوں دی گئی ہے ؟ یا قرآن و حدیث کی روشنی میں صبر کی اہمیت بیان کیجئے۔

جواب  صبر کے لغوی معنی:

صبر کے لغوی معنی ہیں روکنا، برداشت کرنا۔

-1 صبر کا مفہوم:

صبر کا مفہوم یہ ہے کہ ناخوشگوار حالات میں اپنے نفس پر قابورکھا جائے اور گھبرانے کی بجائے ثابت قدمی اختیار کی جائے یعنی پریشانی، تکلیف اور صدمے کی حالت میں پامردی ثابت قدمی اور ہمت قائم رکھتے ہوئے اپنے رب پر بھروسا کیا جائے

صبر میں دل کو گریہ زاری سے اور زبان کو شکوہ اور شکایت سے روک لیا جاتا ہے۔ عقل یا شریعت جس چیز سے نفس کو روکیں اس سے رک جانا بھی صبر ہے۔ البتہ بے بسی و بے کسی اور مجبوری کا نام صبر نہیں۔

2 کامل ایمان کی دلیل:

صبر مسلمان کا ایک ایسا وصف ہے جو ایمان کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے ذریعے انسان رنج و راحت اور خوشحالی و تنگدستی میں ایسا طرز عمل اختیار کرتا ہے جو ایمان کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ کو پسند ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی میں انسان کو جو حالات پیش آتے ہیں وہ بعض اوقات اس کے لئے خوش گوار اور بعض اوقات ناخوشگوار ہوتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں ایک مومن کو جو مثبت رویہ اختیار کرنا چاہیے وہ صبر کا رویہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں صبر کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

3 اجتماعی زندگی میں صبر کی اہمیت:

قوموں پر جب کوئی مصیبت یا برا وقت آجائے تو اس کا مقابلہ صرف ہمت اور صبر سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر ان حالات میں افرا تفری، بد نظمی، مایوسی اور بد عملی کا مظاہرہ کیا جائے تو قو میں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اللہ کی تائید و نصرت ہمیشہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔

4- مومن کی صفت : سچے مومن وہ ہیں جو مصیبت، تکلیف اور جہاد کے موقع پر صبر کرنے والے ہیں۔

5- صبر کا حکم: جب آپ پر مصیبت آئے اس پر اپنے رب کے حکم سے صبر کیجئے۔

6 صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبری: 

وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ ”  اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے”۔ (سورة البقره : 155)

7-حضور ملی یا ہم کو اللہ تعالی کا حکم :

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرَّسُلِ آپ صبر کریں جیسا کہ صاحب عزم رسولوں نے صبر کیا”۔ (سورۃ الاحقاف : 35)

8: اللہ کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ :

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلُوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصُّبِرِينَ ” اے ایمان والو ! صبر اور نماز ( کے ذریعے سے اللہ ) سے مدد حاصل کرو بلا شبہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”  ( سورة البقره: 153)

9: دنیا و آخرت کے خوف سے نجات:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ( سورة الاحقاف : 13)

” بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے نہ انہیں خوف ہو گا اور نہ وہ غمگیں ہوں گے “۔

10- عزم و ہمت کا کام: اور جو مصیبت تمہیں پیش آئے اسے برداشت کرو بے شک یہ بڑے عزم کی بات ہے “۔

11- حضرت ایوب کا وصف :

إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ترجمہ : ” بے شک ہم نے اسے (ایوب علیہ السلام کو ) صابر پایا ۔ قرآن پاک میں حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کی بنا پر ” نعم العبد ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

12- سورۃ العصر کا پیغام:

اللہ تعالی نے اس سورۃ میں زمانے (زمانہ نبوت یا نماز عصر ) کی قسم کھا کر بتایا ہے کہ انسان خسارے اور گھاٹے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جن میں یہ چار خوبیاں ہوں: 

1 توحید اور رسالت محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم  پر ایمان

Ii نیک اعمال ( قرآن و سنت کے مطابق )

iii.حق کی نصیحت (اشاعت و تبلیغ اسلام)

.iv صبر پر عمل اور اس کی تلقین

13- ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم :

1 صبر روشنی ہے ( بے صبری اندھیرا ہے )۔

 ii صبر میری چادر ہے یعنی میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔

 iii.فتح و نصرت صبر سے ہے۔

Iv آپ سے پوچھا گیا ” صبر جمیل ” کسے کہتے ہیں ؟ فرمایا ” وہ جس میں حرف شکایت نہ ہو”۔

.V جس نے غم کا اظہار کیا اس نے صبر نہ کیا۔

.vi صبر ایمان کی چمک دمک ہے۔ ( صحیح مسلم )

.vii صبر نصف ایمان ہے۔

14- اسوہ حسنہ سے مثالیں:

ابو جہل کی گستاخی پر صبر :

عقبہ بن ابی معیط نے ابو جہل کے اکسانے پر اونٹ کی اوجھڑی سجدہ کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پشت مبارک پر ڈال دی اور مشرکین زور زور سے قہقے  لگانے لگے۔ کسی نے آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ (رضی اللہ ) کو اطلاع دی، وہ فوراً دوڑتی ہوئی آئیں اور غلاظت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کی پشت سے دور کی اور ان کافروں کو بد دعادی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے فرمایا: ” بیٹی صبر سے کام لو۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت دے، یہ نہیں جانتے کہ ان کی بہتری کسی چیز میں ہے”۔

ابولہب کی گستاخی اور آپ کا صبر :

ابو لہب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کا چچا تھا۔ لیکن جب سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دین کی تبلیغ شروع کی وہ اور اس کی بیوی ام جمیل دونوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمن ہو گئے۔ ابو لہب نے یہ کہنا شروع کر دیا۔ “لوگو ! ( معاذ اللہ !) یہ دیوانہ ہے۔ اس کی باتوں پر کان نہ دھر و”۔ اس کی بیوی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے راستے میں کانٹے بچھاتی تھی۔ کئی مرتبہ آپ کے تلوے لہولہان ہوئے، مگر آپ نے نہایت صبر و استقلال کے ساتھ اس تکلیف کو برداشت کیا۔ کبھی بد دعا کے لیے ہاتھ نہ اٹھائے مگر اللہ تعالی نے ان دونوں کی اس گستاخی پر ان کی مذمت میں سورہ لہب نازل فرمائی۔

شعب ابی طالب کا محاصرہ:

دشمنان حق نے جب یہ دیکھا کہ ان کی تمام تدبیروں کے باوجود حق کا نور چاروں طرف پھیلتا جا رہا ہے تو انہوں نے نبوت کے ساتویں برس محرم الحرام میں خاندان بنو ہاشم سے قطع تعلق کر لیا۔ جس کی رو سے تمام قبائل عرب کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ بنو ہاشم سے ہر طرح کا لین دین اور میل جول بند کر دیں۔ اور ابو لہب کے سوا پورا خاندان بنو ہاشم تین سال تک حضرت محمدؐ  صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصور رہا۔ اس دوران انہوں نے اتنی تکلیفیں اٹھائیں، جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر اس موقع پر ” رحمت اللعالمین ” نے نہایت صبر و تحمل اور بڑی پامردی و استقامت سے ان حالات کا مقابلہ کیا۔

سوال 2 : قرآن وسنت میں شکر کی کیا اہمیت ہے۔

جواب شکر کا لفظی معنی:

عربی زبان میں شکر کے معنی ہیں، کسی کی عنایات پر اس کی تعریف کرنا، اس کا شکریہ ادا کرنا۔

I جذ بہ شکر گزاری۔

ii اظہار احسان مندی

iii. جانور کو تھوڑا سا چارہ ملنے پر پوری ترو تازگی ہو اور دودھ بھی زیادہ دے ” یعنی کوئی تھوڑا سا بھی کام کر دے تو دوسرا اس کی پوری قدر کرے اور بار احسان سے اس کا سر جھک جائے۔

اصطلاحی معنی:

کسی کے احسان پر اس کی تعریف کرنا، اس کا شکریہ ادا کرنا، اس کا احسان ماننا اور اس کا اظہار کرنا۔

1- شکر کا اسلامی مفہوم:

اللہ تعالی کے احسانات اور نعمتوں کی قدر جان کر اس کے احکام کی اطاعت اور دلی فرمانبرداری کا نام اسلام میں “شکر ” ہے۔

-2 شکر کے طریقے:

شکر کرنے کے تین طریقے ہیں :

-3 قولی شکر :

زبان سے کلمات تشکر (شکریہ کے الفاظ ) ادا کرنا۔

4- قلبی شکر :

دل میں اللہ کی عظمت اور اپنی اطاعت و بندگی کا احساس۔

-5 فعلی شکر :

اپنے عمل سے اللہ کے احکام کی بجا آوری اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا۔

وضاحت

اللہ تعالی کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی شکر گزاری یہ ہے کہ دین کی راہ اختیار کی جائے اور احکام السی کی پوری پوری پابندی کی جائے۔ خالق کائنات کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ ہم ان کا شمار بھی نہیں کر سکتے۔

6- نعمت خداوندی پر شکر :

اور اگر تم اللہ تعالی کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہ سکو گے “۔ ( سورة ابراهيم : 34)

 محسن حقیقی اللہ تعالی کے بے شمار انعامات کا دل ، زبان اور عمل سے اعتراف ہم پر فرض ہے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء سے ایسے افعال صادر ہوں جن سے محسن کی عظمت اور بزرگی کا اظہار ہوتا ہے۔ عبودیت اور شکر گزاری لازم و ملزوم ہیں۔ جو اللہ کا صحیح معنوں میں بندہ ہے وہ اللہ کا کبھی ناشکر انہیں ہو سکتا اور اللہ کی ذات کے لئے اگر کوئی عام انسان بھی لوگوں کے ساتھ نیکی کرے تو اس کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

7- انسان کا اظہار تشکر : ” جو کوئی لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا “۔

8 اضافی رزق کا ذریعہ :

لَينَ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ “- (سورۃ ابراہیم : 7)

“اگر تم شکر ادا کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دیا جائے گا “۔

9- ناشکری سے گریز کرنے کا حکم:

وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ  (سورة البقره: 152)

اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو”۔

10- شکر گزار بنده: “ہم نے انسان کو سیدھا راستہ بتادیا اب چاہے وہ شکر گزار بندہ بن جائے چاہے ناشکرا”۔

11- شکران نعمت: ارشاد باری تعالی ہے :

(i) فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَيْلا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ (سورة النحل: 114)

” پس اللہ تعالی نے جو حلال اور پاک رزق تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو”۔

(ii)بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّكِرِينَ  (سورۃ زمر : 66)

” بلکہ اللہ کی بندگی کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا”۔

(iii) اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کے بس میں کر دیا سوان میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں بعض کو وہ کھاتے ہیں اور ان میں ان لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں بھی ہیں ( یعنی دودھ ) سو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے۔

12 – شکر تمام انبیاء کا شیوہ:

i حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں قرآن میں ہے : بے شک وہ شکر گزار بندے تھے

ii حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: ” ابراہیم اللہ کی نعمتوں کا شکر کرنے والے تھے، اللہ نے ان کو چن لیا اور ان کو سیدھا راستہ دکھایا۔”

13- احادیث کی روشنی میں شکر کی اہمیت:

1 حضرت عمر (رضی اللہ) کو وصیت:

 حضرت عمر (رضی اللہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! ہم کون سا مال جمع کریں ؟ فرمایا : ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل۔

2- حضرت معاذ رضی اللہ) کو نصیحت :

حضرت معاذ ( رضی اللہ ) کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس دعا کی نصیحت فرمائی :

” اللهم اعنى على ذكرك و شكرک و حسن عبادتک”

” اے اللہ ! اپنے ذکر ، نعمت کے شکر اور اچھی طرح عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔”

3- حضرت عائشہ (رضی اللہ) کی روایت :

حضرت عائشہ (رضی اللہ ) بیان کرتی ہیں : ” رات کو کثرت قیام سے آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔ میں نے ایک مرتبہ عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! آپ کے تو اللہ تعالی نے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں پھر آپ کیوں اتنی تکلیف اٹھاتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ” افلا اكون عبدا شکورا ” ” کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟”

حاصل کلام:

اللہ تعالی کی مدد اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہمیں ہر حالت میں اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

               سوالات اور ان کے مختصر جوابات

س 1:صبر کے معنی اور مفہوم لکھیں۔

ج: صبر کے معنی ہیں روکنا اور برداشت کرنا اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ناخوشگوار حالات میں اپنے نفس پر قابور کھا جائے، گھبرانے کی بجائے ثابت قدمی اختیار کی جائے پریشانی تکلیف اور صدمے کی حالت میں پامردی ثابت قدمی اور ہمت قائم رکھتے ہوئے اپنے رب پر بھروسا کیا جائے۔

س 2: وہ کون سے اوصاف ہیں جو کسی مسلمان کے ایمان کے کامل ہونے کی دلیل ہیں ؟

ج: صبر و شکر ایک مسلمان کے ایسے اوصاف ہیں جو اس کے ایمان کے کامل ہونے کی دلیل ہیں۔

س 3:مومن کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں صبر کو کیوں اہمیت دی گئی ہے ؟

ج: دنیا کی زندگی میں انسان کو جو حالات پیش آتے ہیں بعض اوقات خوشگوار اور بعض اوقات تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں مومن کو مثبت اور صبر و شکر کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں صبر و شکر کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

س 4: قرآن مجید میں اللہ تعالی نے کس پیغمبر کو ” نعم العبد ” کہا ہے ؟

ج: قرآن مجید میں اللہ تعالی نے صبر کا اعلی مظاہرہ کرنے پر حضرت ایوب  رضی الللہ  کو ” نعم العبد ” یعنی بہت اچھا بندہ قرار دیا ہے۔

س 5 مسلمان کو دکھ اور تکلیف کے وقت کیا کرنا چاہیے ؟

ج: اگر مسلمان پر کوئی مصیبت یا تکلیف آن پڑے تو اللہ تعالی کی رضا کی خاطر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اسی میں دین اور دنیا کی بھلائی ہے۔

س 6 کسی مصیبت یا مشکل میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے ؟

ج:  کسی بھی مصیبت یا مشکل ہے محض اللہ تعالی کی رضا کی خاطر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

س 7: قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کو کیا بشارت دی گئی ہے؟

ج: قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کو دنیا اور آخرت کی حقیقی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ

اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادو “۔

س 8 شکر کے معنی کیا ہیں نیز شکر کرنے کے تین طریقے کون کون سے ہیں؟

ج: شکر کے معنی ہیں کسی کے احسان و عنایت پر اس کی تعریف کرنا، اس کا شکریہ ادا کرنا اس کا احسان ماننا اور زبان سے اس کا کا کھل کر اظہار کرنا۔

شکر کے تین طریقے یہ ہیں :.

. قولی شکر : زبان سے کلمات تشکر ادا کرنا

.  قلبی شکر : دل میں اللہ کی عظمت اور اپنی اطاعت و بندگی کا احساس کرنا

.  فعلی شکر : اپنے عمل سے اللہ کے احکام کی بجا آوری اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا

س 9: قرآن مجید میں شکر گزاری کا کیا انعام بیان کیا گیا ہے ؟

ج: قرآن کریم نے شکر گزاری کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے نعمتوں میں فراخی اور فراوانی کا وعدہ کیا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے : لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ

ترجمہ : اگر تم شکر ادا کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دیا جائے گا۔

س 10: ایک مسلمان کو دکھ اور پریشانی کے وقت کیا سوچنا چاہیے ؟

ج: ایک مسلمان کو دکھ، تکلیف یا پریشانی کا سامنا کر نا پڑے تو اسے سوچنا چاہیے کہ یہ میری آزمائش ہے۔ اسے اللہ تعالی کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔ مجھے اس موقع پر بے صبری سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اس حالت میں صرف اللہ سے مدد کی دعا کرنی چاہیے۔

س :11: مشکل حالات میں صبر کا مظاہرہ کرنے پر ایک مسلمان کو کیا فوائدہ حاصل ہوتے ہیں؟

ج: مشکل حالات میں صبر و ہمت سے کام لینے پر ایک مسلمان کو درج ذیل فوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں :

.  آزمائش میں کامیاب ہونے پر اُسے بہترین اجر ملے گا۔

.  اطمینان و ثابت قدمی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی۔

. اللہ تعالی اسے ہر قسم کی پریشانی اور گھبراہٹ سے نجات دے گا۔

س 12: اللہ تعالی کی تائید و نصرت کن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے؟

ج: اللہ تعالی کی تائید و نصرت انہی کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے : إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ

ترجمہ : ” یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے “۔

س :13: کون سی قو میں آزمائش پر پورا اترنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں؟

ج: وہ اقوام جو برے وقت میں افرا تفری، بد نظمی، مایوسی اور بے عملی کا مظاہرہ کرتی ہیں وہ تباہ ہو جاتی ہیں اور وہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ آزمائش میں پورا اترنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں۔

س 14: شکر کا مفہوم کیا ہے؟

ج:شکر کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی تعریف کی جائے، اس کی عنایات کا اعتراف کیا جائے اور اس کے احسانات پر سجدہ شکر بجالا یا جائے اور جس نعمت کا شکر ادا کیا جارہا ہو اسے اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری میں استعمال کیا جائے۔

س 15 سب سے زیادہ شکر کی مستحق ذات کون سی ہے؟

ج: عنایات و احسانات کے اعتراف کے حوالے سے اللہ تعالی کی ذات سب سے زیادہ شکر کی مستحق ہے کیونکہ اللہ تعالی کے اپنے بندوں پر انعامات اور احسانات کی کوئی حد نہیں۔ ارشادِ باری تعالی ہے : ” اگر تم اللہ تعالی کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کر سکو گے”۔

س 16: وَبَشِّرِ الصَّبِرِینَ کی وضاحت کیجئے۔

ج: وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ کا مطلب ہے ” اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادیجئے ” ۔ مشکلات، مصائب ، اور تکالیف میں صبر کرنے والوں اور زبانوں پر صرف شکایت نہ لانے والوں کو قرآن مجید میں خوشخبری سنائی گئی ہے کہ ان پر اللہ کی رحمتیں، برکتیں نازل ہوتی ہیں، یہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور ان کے لیے بے حساب اجر ہے ، رزق کی وسعت ، نجات اور دنیاو آخرت میں روشنی ہے۔

س 17: صبر و شکر کس چیز کی دلیل ہے؟

ج: صبر مسلمان کا ایک ایسا وصف ہے جو ایمان کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے ذریعے انسان رنج و راحت اور خوشحالی و تنگدستی میں ایسا طرز عمل اختیار کرتا ہے جو ایمان کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ کو پسند ہوتا ہے۔

س 18: صبر و شکر کا مفہوم تحریر کریں۔

ج: صبر کا مفہوم یہ ہے کہ ناخوشگوار حالات میں اپنے نفس پر قابور کھا جائے، گھبرانے کی بجائے ثابت قدمی اختیار کی جائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا جائے۔ شکر کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی تعریف کی جائے اس کی عنایات کا اعتراف کیا جائے اور اس کے احسانات پر سجدہ شکر بجا لایا جائے۔

Related Articles

Back to top button
Enable Notifications OK No thanks